یہ اُس دور کی بات ہے جب بادشاہت صرف طاقت سے نہیں بلکہ کردار اور عدل سے پہچانی جاتی تھی۔ دور دراز پہاڑوں کے درمیان ایک شاندار سلطنت آباد تھی، جہاں صبح سورج کی کرنیں سنہری محل کی دیواروں سے ٹکرا کر پوری وادی کو روشن کر دیتی تھیں۔ اسی محل میں ایک نیک دل بادشاہ اپنی سات بیٹیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ یہی محل سات شہزادیاں کی کہانی کی بنیاد بنا۔
بادشاہ کی ساتوں بیٹیاں ایک جیسی نہ تھیں، مگر دل کی خوبصورتی میں سب برابر تھیں۔ بادشاہ اکثر کہتا تھا: “اللہ نے مجھے بیٹے نہیں دیے، مگر ایسی بیٹیاں دیں جو پوری سلطنت سنبھال سکتی ہیں۔”
پہلی شہزادی – عقل اور انصاف
سب سے بڑی شہزادی خاموش طبیعت کی تھی۔ وہ دربار میں ہونے والے فیصلے غور سے سنتی اور انصاف کے تقاضوں کو سمجھتی۔ لوگ اس کی باتوں میں وزن محسوس کرتے۔ سات شہزادیاں کی کہانی میں وہ عقل کی علامت تھی۔
دوسری شہزادی – علم کی روشنی
دوسری شہزادی کو کتابوں سے عشق تھا۔ وہ راتوں کو چراغ کی روشنی میں پڑھتی اور سیکھتی۔ اس کا ماننا تھا کہ جہالت سب سے بڑی دشمن ہے۔ وہ کہتی: “علم ہو تو اندھیرا خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔”
تیسری شہزادی – بہادری اور حوصلہ
تیسری شہزادی گھڑ سواری اور تلوار بازی میں ماہر تھی۔ مگر وہ جنگ کی خواہش نہیں رکھتی تھی، بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتی تھی۔ سات شہزادیاں کی کہانی میں وہ جرات کی پہچان تھی۔
چوتھی شہزادی – رحم اور خدمت
چوتھی شہزادی محل کے آرام کو چھوڑ کر غریبوں اور بیماروں کے درمیان رہنا پسند کرتی۔ اس کے ہاتھ میں مرہم ہوتا اور دل میں درد۔ وہ کہتی: “دکھ بانٹنے سے کم ہوتا ہے۔”
پانچویں شہزادی – فن اور خوبصورتی
پانچویں شہزادی شعر، مصوری اور موسیقی میں مہارت رکھتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ سخت دل بھی نرمی سے جیتے جا سکتے ہیں۔ اس کا فن لوگوں کے زخموں پر مرہم بن جاتا۔
چھٹی شہزادی – فطرت سے محبت
چھٹی شہزادی باغات، پرندوں اور درختوں سے باتیں کرتی۔ وہ جانتی تھی کہ انسان اور فطرت کا رشتہ ٹوٹ جائے تو زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔ سات شہزادیاں کی کہانی میں وہ توازن کی علامت تھی۔
ساتویں شہزادی – صبر اور سچائی
سب سے چھوٹی شہزادی کم بولتی مگر سچ بولتی۔ مشکل وقت میں وہ دعا اور صبر کا دامن نہیں چھوڑتی تھی۔ وہ کہتی: “جو اللہ پر چھوڑ دے، وہ کبھی ہارتا نہیں۔”
آزمائش کا وقت
ایک سال سخت قحط آ گیا۔ بارشیں نہ ہوئیں، کھیت سوکھ گئے، لوگ مایوس ہو گئے۔ بادشاہ فکر مند تھا، دربار خاموش تھا۔ تب ساتوں شہزادیاں آگے بڑھیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں سات شہزادیاں کی کہانی نے تاریخ بدل دی۔
انجام اور سبق
بادشاہ نے اپنی بیٹیوں کو دیکھ کر کہا: “آج میں جان گیا ہوں کہ سلطنتیں طاقت سے نہیں، کردار سے چلتی ہیں۔”
یوں سات شہزادیاں کی کہانی ایک داستان نہیں رہی بلکہ ایک سبق بن گئی— کہ اگر عقل، علم، صبر، رحم اور اتحاد ہو تو کوئی مشکل ہمیشہ کے لیے نہیں رہتی۔
اور آج بھی بزرگ بچوں کو یہ کہانی سناتے ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ اصل شہزادگی تاج میں نہیں، اچھے کردار میں ہوتی ہے۔