ایک دور افتادہ گاؤں میں سلیم نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ گاؤں سادہ تھا، لوگ محنتی تھے، مگر سلیم ہمیشہ دوسروں کی خوشحالی کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتا۔ وہ اکثر سوچتا کہ کاش وہ بھی ایک دن امیر ہو جائے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی راستہ کیوں نہ اختیار کرنا پڑے۔ بزرگوں کی ایک ہی نصیحت تھی کہ لالچ بری بلا ہے، مگر سلیم کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی۔
اچانک ملنے والی نعمت
ایک دن سلیم جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لا رہا تھا کہ اس کی نظر ایک پرانے درخت کے نیچے دبے ہوئے صندوق پر پڑی۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ جب اس نے صندوق کھولا تو اس میں چمکتے ہوئے سونے کے سکے تھے۔ یہ اس کے لیے کسی خواب سے کم نہ تھا، مگر اسی لمحے اس کے دل میں ایک اور خواہش جاگ اٹھی۔ اس نے سوچا، “اگر یہاں اتنا ہے تو کہیں اور اس سے بھی زیادہ ہوگا۔” اسی لمحے اس نے وہ بات بھلا دی کہ لالچ بری بلا ہے۔
لالچ کی اندھی راہ
سلیم نے چند سکے نکالے اور باقی صندوق وہیں چھوڑ کر مزید خزانے کی تلاش میں گہرے جنگل میں داخل ہو گیا۔ راستہ تنگ تھا، کانٹے چبھ رہے تھے، لیکن لالچ نے اس کے قدم روکنے نہ دیے۔ وہ جتنا آگے بڑھتا گیا، اتنا ہی خطرہ بڑھتا گیا۔ واقعی، لالچ بری بلا ہے جو انسان کو عقل و شعور سے محروم کر دیتی ہے۔
انجام کی گھڑی
کچھ دیر بعد سلیم ایک دلدل میں جا گرا۔ اس نے نکلنے کی بہت کوشش کی مگر جتنا ہاتھ پاؤں مارتا، اتنا ہی نیچے دھنس جاتا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے وہ سونے کے سکے گھومنے لگے جنہیں وہ آسانی سے گھر لے جا سکتا تھا۔ اب اسے شدت سے احساس ہوا کہ لالچ بری بلا ہے، جو انسان کو ملے ہوئے رزق سے بھی محروم کر دیتی ہے۔
احساس اور نجات
سلیم پوری رات دلدل میں پھنسا رہا۔ صبح گاؤں کے چرواہوں نے اس کی آواز سنی اور بڑی مشکل سے اسے نکالا۔ وہ جسمانی طور پر بھی کمزور ہو چکا تھا اور ذہنی طور پر بھی ٹوٹ چکا تھا۔ صندوق، سکے اور خواب سب دلدل میں دفن ہو چکے تھے۔
زندگی بدل دینے والا سبق
اس دن کے بعد سلیم نے خود سے وعدہ کیا کہ وہ کبھی لالچ کے پیچھے نہیں بھاگے گا۔ اس نے محنت، قناعت اور شکرگزاری کو اپنا شعار بنا لیا۔ وہ اب ہر بچے اور نوجوان کو یہی کہانی سنا کر سمجھاتا کہ:
لالچ بری بلا ہے، یہ انسان کو اندھا کر دیتی ہے، جو مل جائے اسی پر شکر کرو، کیونکہ قناعت میں ہی اصل دولت ہے۔