یہ آلادین کا چراغ اُردو کہانی صرف جادو اور جن کی نہیں، بلکہ ایک ایسے لڑکے کی داستان ہے جس کی اصل طاقت اس کا صاف دل، صبر اور سچائی تھی۔
کئی سال پہلے، ایک دور افتادہ شہر میں آلادین نام کا ایک غریب لڑکا اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کا گھر مٹی کی دیواروں سے بنا تھا، چھت ٹپکتی تھی، اور اکثر دن ایسے آتے جب کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ مگر ان حالات کے باوجود آلادین کبھی شکوہ نہیں کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا: “اماں، رزق کم ہو تو کیا ہوا، عزت اور سچائی ہمارے ساتھ ہے۔”
آلادین روزانہ بازار جاتا، چھوٹے موٹے کام کرتا، کبھی کسی کی مدد کرتا تو کبھی مزدوری، مگر دل میں ہمیشہ ایک ہی خواہش رکھتا تھا کہ ایک دن وہ اپنی ماں کو سکون دے گا۔
جادوگر سے ملاقات
ایک دن بازار میں ایک پراسرار شخص آیا۔ اس کی آنکھوں میں لالچ اور آواز میں مٹھاس تھی۔ اس نے خود کو آلادین کا چچا بتایا اور بڑے پیار سے باتیں کرنے لگا۔ اس نے کہا: “بھتیجے، ایک خزانہ ہے جو صرف تم ہی حاصل کر سکتے ہو۔”
آلادین نے پہلے انکار کیا، مگر جادوگر نے دولت، محل اور خوشحال زندگی کے خواب دکھا کر اس کے دل میں امید جگا دی۔ ماں کی غربت یاد آتے ہی آلادین راضی ہو گیا۔
غار کا امتحان
جادوگر آلادین کو شہر سے باہر ایک سنسان جگہ لے گیا جہاں ایک پرانا غار تھا۔ اس نے کہا: “اندر جاؤ، کچھ بھی ہاتھ نہ لگانا، صرف چراغ لے آنا۔”
غار کے اندر داخل ہوتے ہی آلادین نے ایسی دولت دیکھی جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھی تھی۔ سونے کے ڈھیر، چمکتے ہیرے، مگر اس کا دل نہ ڈولا۔ آخرکار اس نے ایک کونے میں رکھا ہوا پرانا، مٹی میں اٹا ہوا چراغ اٹھا لیا۔
جب وہ واپس آیا تو جادوگر نے چراغ مانگا، مگر آلادین نے پہلے باہر نکلنے کی شرط رکھی۔ یہی بات جادوگر کو ناگوار گزری اور اس نے غار بند کر دیا۔
مایوسی سے امید تک
اندھیرے غار میں آلادین رو پڑا۔ اسے اپنی ماں کی یاد آئی، اپنی غلطی پر شرمندگی ہوئی۔ بے اختیار اس نے چراغ کو صاف کیا تو اچانک زور دار روشنی ہوئی اور ایک عظیم الشان جن ظاہر ہوا۔
جن نے گونج دار آواز میں کہا: “میں اس چراغ کا غلام ہوں۔ جو حکم دو گے، پورا ہوگا۔”
یہ وہ لمحہ تھا جہاں اکثر لوگ دولت مانگتے، مگر آلادین نے سب سے پہلے غار سے نجات مانگی۔ جن مسکرایا، کیونکہ اس نے پہلی بار کسی کو لالچ کے بجائے عقل کا انتخاب کرتے دیکھا۔
طاقت کا صحیح استعمال
غار سے نکلنے کے بعد آلادین نے دولت ضرور حاصل کی، مگر اس دولت کو صرف اپنے لیے استعمال نہیں کیا۔ اس نے غریبوں کے لیے کھانا، مسافروں کے لیے سرائے اور یتیموں کے لیے سہارا بنایا۔
وقت کے ساتھ آلادین نہ صرف امیر بلکہ عزت دار انسان بن گیا۔ اس کے اخلاق کی شہرت بادشاہ تک پہنچی۔ بادشاہ کی بیٹی نے جب آلادین کو دیکھا تو اس کے لباس نہیں بلکہ کردار سے متاثر ہوئی۔
آخری آزمائش
جادوگر دوبارہ آیا، اس بار بھیس بدل کر۔ اس نے چراغ حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر اب آلادین وہ نادان لڑکا نہیں رہا تھا۔ اس نے جن کو حکم دیا کہ جادوگر کو اس کے انجام تک پہنچا دے۔ یوں لالچ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
انجام اور سبق
آخرکار آلادین نے چراغ کو ایک محفوظ جگہ پر دفن کر دیا اور کہا “انسان کو جن سے نہیں، اپنے رب اور اپنی عقل سے طاقت لینی چاہیے۔”